اسکول میں بچوں کو محض کتابی علوم اور نصابی اسباق

اسکول میں بچوں کو محض کتابی علوم اور نصابی اسباق ہی نہ پڑھائے جائیں، بلکہ صفائی، نظم و ضبط اور حسنِ معاشرت کی باقاعدہ تربیت بھی دی جائے۔ اس لیے کہ صفائی محض ایک عادت نہیں، بلکہ ایک تہذیبی وصف اور دینی تقاضا بھی ہے۔ ہمارے دین نے پاکیزگی کو ایمان سے جوڑا ہے، لہٰذا بچوں کے اندر صفائی کا شعور پیدا کرنا دراصل ان کی شخصیت کی تعمیر کا ایک اہم حصہ ہے۔ افسوس کہ ہمار

ے معاشرے میں نوجوانوں کے اندر گندگی پھیلانے، عوامی مقامات کو خراب کرنے اور قانون و ضابطے کی پابندی سے بے اعتنائی کا رجحان روز بروز بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ سڑکوں، گلیوں، پارکوں اور تعلیمی اداروں میں کچرا پھینک دینا یا صفائی کو محض کسی دوسرے کی ذمہ داری سمجھنا ہمارے اجتماعی رویّوں کی کمزوری کی علامت ہے۔ یہ مسئلہ صرف صفائی کا نہیں، بلکہ تربیت، احساسِ ذمہ داری اور شہری شعور کا بھی ہے۔ دنیا کے بعض مہذب معاشروں نے صفائی اور نظم و ضبط کو اپنی اجتماعی زندگی کا لازمی جزو بنا لیا ہے۔ جاپان اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جہاں بچوں کو کم عمری ہی سے صفائی کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔ اسکولوں میں طلبہ اپنے تعلیمی ماحول کو صاف رکھنے میں خود حصہ لیتے ہیں، تاکہ ان کے اندر یہ احساس راسخ ہو کہ صفائی کسی ایک فرد یا ادارے کا کام نہیں، بلکہ ہر شخص کی ذمہ داری ہے۔ اس تربیت کا مقصد صرف صاف ستھرا ماحول پیدا کرنا نہیں، بلکہ بچوں کے اندر نظم، ذمہ داری، خود انحصاری اور دوسروں کے حقوق کا احساس پیدا کرنا بھی ہے۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اپنے بچوں کی تربیت کا دائرہ کتاب اور کلاس روم سے آگے بڑھائیں۔ انہیں صبح بیدار ہوتے ہی اپنا بستر درست کرنے، اپنے کمرے کو ترتیب دینے، اپنی اشیا کو سلیقے سے رکھنے اور اپنے گھر کو صاف رکھنے کی عادت ڈالیں۔ پھر یہی تربیت گھر سے گلی، گلی سے محلے اور محلے سے پورے معاشرے تک پھیلائی جائے۔ بچے کو یہ سکھایا جائے کہ راستے میں کچرا پھینکنا صرف ایک معمولی سی بے احتیاطی نہیں، بلکہ اجتماعی زندگی کے آداب کی خلاف ورزی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیں صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور جدید ٹیکنالوجی سے مہذب نہیں بنتیں، بلکہ ان کی اصل تہذیب ان کے روزمرہ کے رویّوں میں دکھائی دیتی ہے۔ جو بچہ اپنے بستر، کمرے اور اسکول کی صفائی کا خیال رکھنا سیکھ لیتا ہے، وہی آگے چل کر اپنے شہر، ملک اور معاشرے کی ذمہ داری بھی بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے بچوں کو عملی تربیت کے ساتھ ساتھ اچھی اور بامقصد کتب سے بھی روشناس کرانا چاہیے۔ مولانا یوسف اصلاحی کی معروف کتاب ’’آدابِ زندگی‘‘ اس سلسلے میں نہایت مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کتاب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق اسلامی آداب کو عام فہم اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اگر ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کو علم کے ساتھ ساتھ آدابِ زندگی، صفائی، نظم و ضبط اور احساسِ ذمہ داری بھی سکھائیں تو ہم ایک ایسی نسل تیار کرسکتے ہیں جو صرف تعلیم یافتہ ہی نہیں بلکہ باکردار، بااصول اور مہذب بھی ہو۔ صفائی کا سبق کتاب سے شروع ہوسکتا ہے، مگر اس کی تکمیل کردار میں ہونی چاہیے۔ تحریر : نثاراحمد

Comments