خبر یہ ہے کہ ایک قاری نے مدرسے کے دس سالہ بچے کے ساتھ بدکاری کی۔ یہ واقعہ سوات کے دردیال (کبل) کے پنورئی نامی گاؤں میں پیش آیا۔ قاری کا نام عمر صادق اور والد کا نام عمر خان بتایا گیا ہے۔ بچے کا والد سعودی عرب میں مزدوری کرتا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور وہ اس وقت جیل میں ہے۔
یہاں اہم سوال یہ ہے کہ مدرسے یا پرائیویٹ اسکول میں بچوں کو پڑھانے کا طریقہ کار اور استاد کی اہلیت یا سند کا تعین کون کرتا ہے؟ پوری دنیا میں بچوں کی تعلیم و تربیت اور تحفظ کے لیے باقاعدہ طریقہ کار اور اصول موجود ہیں۔ یہ مسئلہ صرف مدارس تک محدود نہیں ہے، بلکہ پرائیویٹ اسکولوں میں بھی ایسے بہت سے مسائل سامنے آتے رہتے ہیں۔ چند لوگوں کے ایسے گھٹیا اور مجرمانہ اعمال کی وجہ سے پورا ادارہ بدنام ہو جاتا ہے۔
لڑکیوں کے پبلک اسکولوں میں بھی بعض ایسے مرد اساتذہ موجود ہیں کہ انسان سن کر حیران رہ جاتا ہے۔ لوگوں کی مجبوری یہ ہے کہ سرکاری اسکول ہر جگہ اتنی تعداد میں موجود نہیں، اور جہاں موجود ہیں وہاں تعلیم کا معیار بھی ہمیشہ والدین کی توقعات کے مطابق نہیں ہوتا۔
چند روز پہلے خوازہ خیلہ میں بھی ایک بچے کے ساتھ ایسا ہی مسئلہ سامنے آیا، جہاں اس کے استاد نے اسے مختلف قسم کی پیشکشیں کیں۔ اس بارے میں میری اپنی تحقیق جاری ہے۔ بچے کو مختلف تحائف وغیرہ دیے گئے اور اسے یہ کہا گیا کہ ’’تم مجھے بہت پسند ہو۔‘‘ اگر استاد کو دیکھیں تو وہ بظاہر ایک معصوم سا شخص نظر آتا ہے، لیکن ایسے لوگ بچوں کو اپنے جال میں کیسے پھنساتے ہیں؟
ہم اپنے بچوں کو ایسے لوگوں کے حوالے کیسے کر سکتے ہیں؟ ایسے بہت سے واقعات عمر کے تقاضوں، اداروں کے نظم و ضبط اور بچوں کی تربیت کے بنیادی اصولوں سے براہ راست تعلق رکھتے ہیں۔ تعلیمی ادارے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک بچے کو بہتر انسان اور بہتر شہری بنایا جائے، لیکن یہاں تو کئی جگہ معاملات بالکل الٹ سمت میں جا رہے ہیں۔
یہ معاملہ اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ والدین ایسے واقعات کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے کہاں بھیجیں؟
چاہے یہ معاملہ مدرسے کا ہو یا کسی پبلک اسکول میں کسی استاد کا، ہمیں اصل مسئلے پر توجہ دینی ہوگی۔ اگر کوئی شخص بچوں کے ساتھ اس طرح کا گھٹیا اور مجرمانہ عمل کرتا ہے تو اسے صرف ایک ادارے سے نکال دینا کافی نہیں۔ ایسے شخص کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ دوسروں کے لیے بھی واضح پیغام ہو کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ریاست کا کام صرف مقدمہ درج کرنا نہیں، بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نظام بنانا بھی ہے۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کے واضح اصول ہونے چاہئیں، اساتذہ کی مناسب جانچ پڑتال ہونی چاہیے، ان کی اسناد اور کردار کی تصدیق ہونی چاہیے، اور بچوں کے لیے شکایت کا محفوظ اور قابلِ اعتماد نظام موجود ہونا چاہیے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہر شخص خود سے یہ سوال کرے کہ چاہے وہ قاری ہو، استاد ہو یا کوئی عام شخص، اگر اسے بچوں کے ساتھ زیادتی کی اجازت دی جائے یا ایسے جرائم کو نظر انداز کیا جائے تو ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو کس کے حوالے کر رہے ہیں؟
تحریر : حیدر علی جان خوازہ خیلہ
Comments
Post a Comment