گاوں کی کہانی

دل کی گہرائیوں سے میں یہ بات کہنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ مجھے اس امر کی دلی خوشی ہے کہ یہ تنظیم وجود میں آ چکی ہے۔
میں ایک تجویز پیش کرنا چاہوں گا کہ صفائی کے لیے ایک دن بزرگ شہریوں کا انتخاب کیا جائے، جس میں بہادر خان، بیلہ در خان، ہارون الرشید خان، اقبال خان، خود میں، اور دیگر ساٹھ سال یا اس سے زائد عمر کے معزز شہری شامل ہوں۔ اس موقع پر جھاڑو اور دیگر ضروری انتظامات کیے جائیں تاکہ ہم سب مل کر گاؤں کی صفائی کریں۔
اس عمل کو کسی قسم کی تشہیر سے پاک رکھا جائے تاکہ اس کا اثر زیادہ خالص اور بامعنی ہو۔ اس سے نئی نسل میں شعور اور ذمہ داری کا احساس بیدار ہوگا اور ایک مثبت پیغام معاشرے تک پہنچے گا۔

کمیٹی کے صرف ممبران سے پانچ سو روپے کی وصولی کافی نہیں سمجھی جا سکتی۔ ہمارے گاؤں میں ایسے کئی صاحبِ حیثیت افراد موجود ہیں جن کے باغات اور ذرائع آمدن قابلِ ذکر ہیں۔ ان سے بھی رابطہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ کمیٹی کے کاموں میں دل کھول کر حصہ ڈالیں۔ البتہ اس پورے نظام میں کمیٹی کی کارکردگی اور تسلسل بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو ان شاء اللہ ایک وقت آئے گا جب پورا گاؤں اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

آئس نشے کی وبا خطرناک حد تک پھیل چکی ہے، اور اس وقت مدین گاوں, اس کے شدید اثرات کی زد میں ہے۔ یہ ایک منظم نیٹ ورک کے تحت پھیلایا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک نشئی اگر مزید دس افراد کو اس لت میں مبتلا کرے تو اسے انعام دیا جاتا ہے۔ یہ نشہ نہ صرف فرد بلکہ پورے خاندان کی تباہی کا سبب بنتا ہے، لہٰذا اس کے خلاف اجتماعی شعور اور سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔

یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ زیادہ تر چوری کے واقعات فتح پور سے باہر کے افراد سے منسوب ہیں۔ مقامی افراد میں عمومی طور پر اس رجحان کی حوصلہ افزائی نہیں پائی جاتی۔ زیادہ تر ایسے عناصر اس میں ملوث ہوتے ہیں جن کے پاس روزگار کے مواقع موجود نہیں ہوتے۔

عشاء کی نماز کے بعد بچوں کو غیر ضروری طور پر باہر نہ چھوڑا جائے۔ موبائل فون کا بے دریغ اور منفی استعمال بھی ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم مجموعی طور پر ایک تشویشناک سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

جو افراد گھروں کی تعمیر یا دیگر تعمیراتی کام کر رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ ملبہ خود اٹھا کر مناسب جگہ پر ٹھکانے لگائیں۔ 

گاؤں کے اطراف کی نگرانی ہر شہری کی ذمہ داری ہے، اور ایک ذمہ دار معاشرے کی بنیاد اسی احساسِ فرض پر قائم ہوتی ہے۔

 لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ بھی فوری توجہ طلب ہے۔

اس کمیٹی میں ہر فرد کو اپنی ذمہ داری کے مطابق حصہ ادا کرنا چاہیے۔

پروفیسر محمد اقبال صاحب کا خطاب

https://youtu.be/fbptSr1cDz4?is=eiaG7flHjtkRt7Sc

Comments

Popular posts from this blog

DPO Shafiullah Orders Public Posting of Drug Dealers and Bailiffs' Pictures in Swat's Khwaza Khela Fatehpur

Report on Qalam Welfare College Bagh Dherai Fatehpur, Swat - Part-I and II Annual Examination 2023

Malak Travel AC Coaster : Swat to Rawalpindi Public Transport