ایک صاحبِ فکر شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے کہ,,,,
شکوہ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
یہ بات اپنے اندر ایک اصولی حقیقت رکھتی ہے۔ ہمارا یہ گاؤں دراصل ہم سب کا مشترکہ گھر ہے۔ اس گھر کی صفائی، اس کی حفاظت، اس کا نظم اور اس کی بہتری ہم سب کی مساوی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم میں سے کوئی اپنی فرض شناسی میں کوتاہی کرے گا تو اس کا وبال صرف فرد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پوری آبادی اس سے متاثر ہوگی۔ اس لئے انفرادی مفاد کے محدود دائرے سے نکل کر اجتماعی فلاح کو مقصد بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
بچوں کی بہتر تربیت اور آنے والی نسلوں کے ایک روشن مستقبل کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ ہم اپنے باہمی اختلافات کو پیچھے ڈال کر ایک ایسی فضا پیدا کریں جہاں شعور، اخلاق اور پاکیزگی فروغ پائیں۔ آج جب میں نے اپنے گاؤں کے بزرگوں کو جھاڑو ہاتھ میں لئے صفائی کرتے دیکھا تو دل میں عجز اور محبت کے جذبات موجزن ہوگئے۔ اللہ انہیں سلامت رکھے اور ان کا سایہ ہمیشہ قائم رکھے۔ عمل ہی سب سے بڑی تعلیم ہے، اور بزرگانِ دیہات نے آج اس کی بہترین مثال قائم کی ہے۔
نوجوانوں کی اصلاح اور ان کی صلاحیتوں کے درست استعمال کے لیے ضروری ہے کہ انہیں منفی راستوں سے ہٹاکر مثبت سرگرمیوں کی طرف لایا جائے۔ کھیل کود، علمی حلقے، مطالعہ مجالس، قرآن فہمی، تربیتی نشستیں اور ادبی مقابلے نوجوانوں کے لئے وہ دروازے کھولتے ہیں جو ان کے ذہن و کردار دونوں کو مضبوط کرتے ہیں۔
تاہم صرف یہ سرگرمیاں ہی کافی نہیں۔ اس دور میں نوجوانوں کو کمیونٹی سروس پروگراموں میں شریک کرنا، کتاب کلچر کو فروغ دینا، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل صلاحیتوں کی تربیت دینا، ماحولیاتی شعور کی بیداری کے لئے کورسز کا انتظام کرنا اور کھیل کے میدانوں کی تعمیر و دیکھ بھال بھی نہایت اہم ہیں۔ یہی وہ عملی میدان ہیں جہاں نوجوان اپنے وقت اور قوت کو نافع مقصد کیلئے استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔ جو نوجوان اپنی جوانی میں مثبت طور پر سرگرم ہوتے ہیں وہی آگے چل کر بامعنی اور ذمہ دار شہری بنتے ہیں۔
یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ کامیابی کا واحد معیار محض دولت کا حصول نہیں۔ ہمارے معاشرے میں یہ بدقسمت رجحان جڑ پکڑ رہا ہے کہ پیسہ ہی سب کچھ ہے، حالانکہ یہی سوچ حلال و حرام کی تمیز کو مٹا رہی ہے۔ ظاہری طور پر تو شاندار گھر تعمیر ہورہے ہیں لیکن باطن میں انسانیت اور اخلاقی اقدار آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرہ اس وقت تک محفوظ نہیں ہو سکتا جب تک دولت کے پیچھے اخلاقی اصولوں کو پامال نہ کیا جائے بلکہ کردار، علم، خدمت اور دیانت کو معیارِ فضیلت بنایا جائے۔
اگر ہم سب مل کر اپنے حصے کی شمع جلائیں تو یہ بستی روشنیوں کا گہوارہ بن سکتی ہے۔
تحریر: نثار احمد
فرینکفرٹ، جرمنی
Comments
Post a Comment